4 اگست 2026 - 17:24
تجزیہ: سعودی عرب ایران سے کشیدگی نہیں چاہتا، مگر اب بھی امریکی پالیسیوں کے دائرے میں ہے

لبنانی اخبار کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ریاض براہِ راست جنگ سے گریز کا خواہاں ہے، تاہم کئی علاقائی معاملات میں واشنگٹن کی ترجیحات کے مطابق چل رہا ہے

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی اخبار الاخبار کے تجزیہ نگار حسین ابراہیم کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر حملے سے گریز کی درخواست کی تھی، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض اب بھی تہران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے سے بچنا چاہتا ہے، اگرچہ بعض علاقائی معاملات میں وہ بدستور امریکی پالیسیوں کے دائرے میں حرکت کر رہا ہے۔

حسین ابراہیم نے "سعودی عرب امریکہ کی تیزی کو قابو میں رکھتا ہے؛ ایران سے جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا" کے عنوان سے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ویب سائٹ آکسیوس کی رپورٹ، جس میں محمد بن سلمان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے خلاف کشیدگی نہ بڑھانے کی درخواست کا ذکر کیا گیا، اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاض اب بھی تہران کے ساتھ سیاسی حل اور مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بعض تجزیوں کے برعکس سعودی عرب ایران کے ساتھ کسی وسیع اور براہِ راست تصادم کا خواہاں نہیں۔

تجزیہ نگار کے مطابق، اگرچہ سعودی عرب اپنی معاشی اور تیل کی اہمیت کے باعث واشنگٹن کے بعض فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے، لیکن وہ امریکہ کا ایک نسبتاً چھوٹا شراکت دار ہے، اس لیے متعدد معاملات میں اسے امریکی خواہشات کے مطابق عمل کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی میں اسرائیلی حکومت کا کردار بھی شامل رہا ہے، جبکہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں تہران خلیج فارس کے ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا کر جواب دے سکتا تھا۔

حسین ابراہیم نے مزید لکھا کہ سعودی عرب اگرچہ یمن کے محاصرے کو جاری رکھنے، بحری اتحاد میں شمولیت یا بعض امریکی فوجی اقدامات کا ساتھ دینے جیسے معاملات میں شریک ہو سکتا ہے، تاہم وہ ایران کے ساتھ ایک ہمہ گیر اور بے قابو جنگ کے نتائج برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، کیونکہ ایسی جنگ خلیج فارس کے امن اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

تجزیے کے اختتام پر انہوں نے یمن کے حوالے سے سعودی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یمن کا مسلسل محاصرہ ریاض کے اپنے مفادات سے زیادہ امریکی پالیسیوں کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق، سعودی عرب کو اپنے طویل المدتی مفادات کے تحفظ کے لیے علاقائی فیصلوں میں زیادہ خودمختاری اختیار کرتے ہوئے واشنگٹن کی پالیسیوں کے محض ایک آلے کے بجائے اپنی قومی ترجیحات کے مطابق حکمتِ عملی اپنانی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha